آج کے ریٹ
آپ کے اندراجات بتاتے ہیں کہ آپ کے پاس کیا ہے۔ یہ ایک اسکرین بتاتی ہے کہ زکات کے دن اُس سب کی قیمت کیا ہے — سونے کا ریٹ، ہر غیر ملکی کرنسی کا ریٹ، حصص کی قیمت، جائیداد کی مالیت۔
دو الگ سوال
زکات کی ورک شیٹ دو باتیں پوچھتی ہے، اور بزنسلی اُنہیں جان بوجھ کر الگ رکھتی ہے۔
- آپ کے پاس کیا ہے؟ مقدار۔ بارہ تولہ زیور۔ تین ہزار سعودی ریال۔ آدھا پلاٹ۔ یہ آپ سال کے اندر ایک بار درج کرتے ہیں۔
- آج اُس کی قیمت کیا ہے؟ ریٹ۔ سونے کا ایک ریٹ۔ ریال کا ایک ریٹ۔ پلاٹ کی ایک مالیت۔ یہ ہر سال بدلتے ہیں، اِس لیے ایک ہی جگہ پوچھے جاتے ہیں۔
آج کے ریٹ وہی جگہ ہے۔
وہاں کیسے پہنچیں
سال کھلا ہو تو ایک پٹی سال کی اسکرین اور حساب کی اسکرین، دونوں پر نظر آتی ہے:
- سال کھولیں۔
- آج کے ریٹ والی پٹی دبائیں۔
- جو سطریں دکھائی جائیں، اُنہیں پُر کریں۔
یہ کیا پوچھتی ہے
صرف وہی سطریں دکھائی جاتی ہیں جن کی آپ کے اندراجات کو ضرورت ہو۔ جس سال آپ کے پاس سونا نہ ہو، اُس سال سونے کا ریٹ کبھی نہیں پوچھا جائے گا۔
| سطر | کب آتی ہے |
|---|---|
| سونے کا ریٹ فی تولہ | آپ کے پاس زیور ہو |
| سونے کا ریٹ فی گرام | آپ کے پاس سرمایہ کاری کا سونا ہو |
| ہر کرنسی کا ایک ریٹ | آپ کے پاس وہ غیر ملکی کرنسی ہو |
| ہر حصص کے اندراج کی فی یونٹ قیمت | آپ کے پاس حصص ہوں |
| ہر جائیداد کی موجودہ مالیت | آپ کے پاس جائیداد ہو |
جو خانہ خالی ہو، اُس پر درج نہیں لکھا رہتا ہے۔
ہر کرنسی کا ایک ریٹ، ہر نوٹ کا نہیں
اگر آپ کے پاس سعودی ریال تین جگہوں پر ہیں تو ریال کا ریٹ سال میں ایک ہی بار لکھنا ہے۔ ریال کی ہر سطر وہی استعمال کرتی ہے۔ سونے کا بھی یہی اصول ہے: ایک تولہ ریٹ آپ کے سارے زیور کی قیمت لگا دیتا ہے۔
لکھتے ہی سب دوبارہ حساب
ریٹ محفوظ کرتے ہی ورک شیٹ کے میزان بدل جاتے ہیں — کل اثاثے اور اُن کے ذریعے زکات کی رقم۔ الگ سے دوبارہ حساب کرنے کا کوئی مرحلہ نہیں۔
ریٹ لکھنا اُس سطر کا جائزہ لینا بھی شمار ہوتا ہے، اِس لیے ریٹ بھرتے جائیں تو جائزہ درکار کے نشان ساتھ ساتھ ہٹتے جاتے ہیں۔
منجمد ہونے کے بعد
منجمد سال اُنہی ریٹس پر رہتا ہے جن پر وہ طے ہوا تھا، اور پٹی غائب ہو جاتی ہے۔ یہ جان بوجھ کر ہے — سونا اوپر نیچے ہونے سے طے شدہ سال خاموشی سے نہیں بدلنا چاہیے۔ دیکھیں سال منجمد کریں۔
آگے: ریٹس اور حساب۔